انگوٹھی پہننے کے مسائل



مردوں کے لئے چاندی کی صرف ایک انگوٹھی پہننا جائز ہے۔چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان فر مایا کہ:رسول اللہ ﷺنے جب روم (اور دیگر ملکوں کے بادشا ہوں کو) خط لکھنے کا ارادہ فر مایا تو کسی نے کہا کہ:وہ لوگ بغیر مہر کے خطوط کو قبول نہیں کرتے تو حضور ﷺنے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس میں یہ نقش تھا۔محمد رسول اللہ۔[صحیح مسلم،حدیث: ۲۰۹۲]
سونے کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ:رسول اللہ ﷺنے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ نے اسے اتار کر پھینک دیا اور ارشاد فر مایا کہ:تم میں سے کوئی شخص آگ کا شعلہ اپنے ہاتھ میں لینا چا ہتا ہے؟(یعنی نہیں، تو اس سے بچو کیو نکہ سونے کی انگوٹھی پہننے والوں کے ہاتھ میں جہنم کی آگ ہو گی) رسول اکرم ﷺکے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا کہ:جاؤ اپنی انگوٹھی اٹھا لو اور اس سے نفع حاصل کرو۔ (یعنی اسے بیچ کر مال حاصل کر لو یا کوئی دوسری چیز خرید لو)انہوں نے کہا :خدا کی قسم! جس چیز کو رسول اللہ ﷺنے پھینک دیا میں اس کو کبھی نہیں اٹھاؤں گا۔[صحیح مسلم، حدیث: ۲۰۹۰]
انگوٹھی دونوں ہاتھ میں سے جس میں چا ہیں پہن سکتے ہیں۔ کیو نکہ حضور اکرم ﷺسے دونوں طر ح کی روایت موجود ہے ۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن جعفررضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اپنے داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے ۔(ابن ماجہ،حدیث: ۳۶۴۸ ) اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ:نبی کریم ﷺاپنے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔اور نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھتے تھے ۔[ابوداؤد،حدیث: ۴۲۲۷]
دو نوں روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کبھی حضور ﷺنے داہنے ہاتھ میں پہنا اور کبھی بائیں ہاتھ میں۔اس لئے دونوں جائز ہے۔اب رہی بات کہ انگوٹھی کس انگلی میں پہنی جائے تو چھنگلیاں یعنی ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں پہننا چا ہئے۔جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان فر مایا کہ:نبی کریم ﷺکی انگوٹھی اِس انگلی میں تھی۔یہ کہہ کر انہوں نے بائیں ہاتھ کی چھنگلی کی طرف اشارہ کیا۔[صحیح مسلم، حدیث: ۲۰۹۵]
بیچ والی اور اس سے ملی ہوئی شہادت کی انگلی اور انگوٹھے میں نہیں پہننا چا ہئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان فر مایا کہ: مجھے رسول اللہ ﷺنے اس انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فر مایا،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیچ والی اور اس سے ملی انگلی کی طرف اشارہ فر مایا۔[صحیح مسلم،حدیث:۲۰۷۸،ابن ماجہ کی روایت میں ابہام کا لفظ بھی آیا ہے جس کا معنی ہوتا ہے۔انگوٹھا۔ابن ماجہ،حدیث: ۳۶۴۸]
انگوٹھی میں نگینہ کسی بھی پتھر کا استعمال کر نا درست ہے اسی طر ح سے انگوٹھی میں اپنا نام یا اللہ ورسول کا نام نقش کرانا بھی جائز ہے البتہ حضور ﷺکی انگوٹھی کا نقش کرانا درست نہیں یعنی’ محمد رسول ا للہ ‘کیو نکہ اس سے آپ ﷺنے منع فر مایا ہے۔[صحیح مسلم،حدیث: ۲۰۹۲]





متعلقہ عناوین



کھانے کے آداب پینے کے آداب لباس سے متعلق احکام وآداب تیل،خوشبو اور کنگھی کے مسائل وآداب گھر سے نکلنے اور گھر میں داخل ہونے کا طریقہ سونے چاندی کے زیورات کے احکام ومسائل لوہا،تانبا،پیتل اور دوسرے دھات کے زیورات کے احکام مہندی،کانچ کی چوڑیاں اور سندور وغیرہ کا شرعی حکم بھئوں کے بال بنوانے،گودنا گودوانے اور مصنوعی بال لگوانے کا مسئلہ سفید بالوں کو رنگنے کے مسائل حجامت بنوانے کے مسائل وآداب ناخن کاٹنے کے آداب ومسائل پاخانہ، پیشاب کرنے کے مسائل وآداب بیمار کی عیادت کے فضائل ومسائل بچوں کی پیدائش کے بعد کے کام جھا ڑ پھونک اور د عا تعو یذ کے مسائل جوتے اور چپل پہننے کے مسائل وآداب چھینک اور جماہی کے مسائل وآداب ہم بستری کے مسائل و آداب پیر کے اندر کن باتوں کا ہونا ضروری ہے؟ سونے،بیٹھنے ا و ر چلنے کے مسائل وآداب دوسرے کے گھر میں داخل ہونے کے مسائل وآداب سلام کرنے کے مسائل مصافحہ،معانقہ اور بوسہ لینے کے مسائل ماں باپ یا بزرگوں کا ہاتھ پیر چومنا اور ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہونے کا مسئلہ ڈ ھول،تاشے،میوزک ا و ر گانے بجانے کا شرعی حکم سانپ،گرگٹ اور چیونٹی وغیرہ جانوروں کومارنے کے مسائل منت کی تعریف اور اس کے احکام ومسائل قسم کے احکام ومسائل اللہ کے لئے دوستی اور اللہ کے لئے دشمنی کا بیان غصہ کرنے اور مارنے پیٹنے کے مسائل غیبت،چغلی،حسد اور جلن کے شر عی احکام موت سے متعلق احکام و مسائل



دعوت قرآن