متفرق مسائل



سوال: کچھ بوڑھی عورتیں لڑ کیوں کے سلام کا جواب اس طرح سے دیتی ہیں"خوش رہو" سہاگن بنی رہو" دودھ پوت والی رہو" وغیرہ ،یہ طریقہ صحیح ہے یا غلط؟

جواب: یہ سب دعائیہ جملے ہیں سلام کے جواب میں اس طرح کے الفاظ بول دینے سے سلام کا جواب نہ ہوگا ،جبکہ سلام کا جواب دینا واجب ہے اور نہ دینا گناہ ہے۔اس لئے ہمیشہ ہر مردو عورت کو سلام کے جواب میں "وعلیکم السلام" ہی کہنا چاہئے۔اس کے بعد دعائیہ جملے بولے تو مزید اچھی بات ہے۔

سوال: عورتیں جانوروغیر ہ ذبح کر سکتی ہیں یا نہیں ؟

جواب: ذبیحہ کے حلال ہونے کے لئے ایمان کے ساتھ ذبح کرتے وقت اللہ تعالی کا نام لینا شرط ہے مرد ہونے کی شرط نہیں ہے اس لئے عورت بھی "بسم اللہ اللہ اکبر"پڑھ کر جانور ذبح کر سکتی ہیں اور وہ ذبیحہ بلا شبہ حلال ہوگا۔

سوال: اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب عورتیں چپل وغیرہ خریدنے جاتی ہیں تو مرد دکاندار اس کا پیر پکڑ کر چپل پہناتا ہے ، اور تعریف کرتا ہے کہ "یہ چپل آپ کے پیر میں زیادہ خوبصورت لگ رہا ہے "وغیرہ اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: مرد کے لئے اپنی بیوی کے سوا کسی دوسری عورت کاہاتھ پیر پکڑ نا سخت ناجائز و گناہ ہے۔اور عورت کے لئے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کو اپنے ہاتھ یا پیر پکڑنے کی اجازت دے۔اس لئے اس صورت میں دونوں سخت گنہگار ہوں گے۔اسی طرح عورتوں کے لئے مردوں سے اپنے کپڑے نپوانا بھی جائز نہیں ہے۔ان سب کاموں سے بچنا بہت ہی ضروری ہے۔

سوال: عورت کے لئے اپنے مرد پیر کا بدن دبا نا،یا اس کا ہاتھ پیر چومنا کیسا ہے؟

جواب: سخت ناجائز وحرام اور گناہ ہے۔اور جو پیر اس طرح کے کام کرواتا ہے یا اس کی اجازت دیتا ہے وہ پیر ہونے کے لائق ہی نہیں۔ایسے پیر سے مرید ہونا بھی درست نہیں ہے۔ہاں چھوٹی بچیوں کے لئے یہ جائز ہے لیکن آج کے فتنے کے زمانے میں اس سے بھی بچنا ہی بہتر ہے۔

سوال: کچھ شوہراپنی بیویوں کو دیور ،بہنوئی،جیٹھ اور پھو پھا کے لڑکے وغیرہ سے پردہ کرنے کا حکم دیتے ہیں اس پر ان کی بیویاں غصہ ہوتی ہیں اور کبھی کبھی ان سب باتوں کی وجہ سے شوہر سے طلاق مانگنے لگتی ہیں،اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: جیٹھ ،دیور،بہنوئی،پھو پھا،خالو،چچازاد،ماموں زاد،پھوپھی زاد،خالہ زاد بھائی یہ سب لوگ عورتوں کے لئے اجنبی کے حکم میں ہے ۔عورتوں کا ان کے سامنے بلاحجاب جانا ،ان سے باتیں کرنا ،میل ملاپ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔اور دوسرے بیگانے کے مقابلے میں ان کا ضرر ونقصان زیادہ ہےکہ دوسرا آدمی گھر میں آتے ہوئےڈرتا ہے اور یہ آپسی میل جول کی وجہ سےکوئی خوف نہیں رکھتے،اسی لئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کوغیر عورتوں کے پاس جانے سے منع کیا تو ایک انصاری صحابی نے عرض کیا :یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،جیٹھ اور دیور کا کیا حکم ہے؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:الحموالموت۔جیٹھ اور دیور تو موت ہیں۔{صحیح بخاری،کتاب النکاح، حدیث :۵۲۳۲}یعنی اس میں فتنہ کا احتمال زیادہ ہے۔اور شریعت کا حکم دینے پر جو عورتیں ناراض ہوتی ہیں اور طلاق مانگتی ہیں۔ایسی عورتوں کے بارے میں آقائے کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فر مایا کہ:جو عورت بغیر ضرورت شرعی کے شوہر سے طلاق مانگتی ہے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔{مسند احمد،عن ثوبان رضی اللہ عنہ،ج:۵/ ص:۲۷۷ }

سوال: کچھ لوگ شادی کے بعد اپنے دوستوں کو اپنی بیوی کا منہ دکھاتے ہیں اور اس سے ملاقات وغیرہ کراتے ہیں ،تو کیا عورت اس سے انکار کرنے کا حق رکھتی ہے؟

جواب: جو مرد اپنی بیوی کا چہرہ دوسرے لوگوں کو دِکھاتے ہیں وہ "دیوث" ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ:تین شخص جنت میں نہیں جائیں گےماں ،باپ کو تکلیف دینے والا، دیوث اور مردبننے والی عورت۔{المستدرک للحاکم،کتاب الایمان، ج:۱/ص:۷۲} عورت کو مکمل حق ہے کہ اس سے انکار کرے بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ ایسا ضرور کرے ۔نہیں تو وہ خود بھی گنہگار ہوگی۔کیونکہ بیوی پر شوہر کی فر مانبرداری لازم ہے مگر ناجائز کاموں میں نہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:لاطاعۃ فی معصیۃ اللہ۔اللہ کی معصیت یعنی گناہ کے کاموں میں کسی کی فر مانبرداری جائز نہیں۔

سوال: دو،تین بچے ہوجانے کے بعد بعض عورتیں اپنے شوہر کو ہم بستری کی اجازت نہیں دیتیں ،تو کیا عورت کو یہ حق حاصل ہے؟

جواب: نہیں ،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:جب کوئی شوہر اپنی بیوی کو بستر پر بلاتا ہے اور وہ آنے سے انکار کرتی ہے تو صبح تک فر شتے اس پر لعنت کرتےرہتے ہیں۔اور دوسری روایت میں ہے کہ :اللہ تعالی اس سے اس وقت تک ناراض رہتا ہے جب تک کہ اس کا شوہر اس سے راضی نہیں ہوجاتا۔{صحیح بخاری،حدیث:۳۲۳۷}

سوال: میاں بیوی کے درمیان ہونے والی پوشیدہ باتوں کو اپنے دوستوں یا سہیلیوں سے بتانا کیسا ہے؟

جواب: سخت ناجائز وگناہ کا کام ہے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا کہ:قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بُرا شخص وہ ہوگا جو اپنی عورت کے پاس جا کر جماع کرتا ہے پھر اس کے راز کو دوسروں سے بتا دیتا ہے۔{صحیح مسلم،حدیث:۱۴۳۷}

سوال: وہ کون کون لوگ ہیں جن سے پردہ کرنا عورتوں کے لئے درست نہیں ہے؟

جواب: عورتوں کے لئے صرف ان لوگوں سے پردہ کرنا درست نہیں ہے جن سے نسبی تعلق کی وجہ سے کبھی کسی صورت میں نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔جیسے باپ،دادا،نانا،بھائی،بھتیجا،بھانجا،چچا،ماموں،بیٹا،پوتا،نواسا۔ان کے علاوہ جن سے نکاح کرنا کبھی درست ہو اگرچہ فی الحال ناجائز ہے،جیسے بہنوئی جب تک بہن زندہ ہے،یا چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی کے بیٹے،جیٹھ اور دیور وغیرہ ان سے پر دہ کر نا واجب ہے۔{فتاویٰ رضویہ،جلد:۲۲/ص:۲۳۵}

سوال: ساس کا اپنے داماد سے پردہ کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب: وہ تمام مرد جن سےعورت کا نکاح کرناہمیشہ کے لئے حرام ہے مگر حرام نسب کی وجہ سے نہ ہو بلکہ دودھ کے رشتے کی وجہ سے ہو جیسے،دودھ کے رشتے سے باپ،دادا،نانا،بھائی،بھتیجا،بھانجا،چچا،ماموں،بیٹا،پوتا،نواسا۔یا دامادی رشتے کی وجہ سے حرام ہو جیسے سسر،ساس،داماد،بہو۔ان سب سے پردہ کرنا اور نہ کرنا دونوں درست ہے ۔مگر آج کے فتنے کے زمانے میں بحالت جوانی پردہ کرنا ہی مناسب ہے ۔خصوصا دودھ کے رشتے میں کیونکہ آج عوام کے خیال میں اس رشتے کا تقدس بہت کم ہوتا ہے۔

سوال: کچھ عورتیں اپنے گھر کے اندر جمع ہو کر اس طرح بلند آواز سے میلاد شریف پڑ ھتی ہیں کہ آواز باہر تک جاتی ہے تو اس طرح سے عورتوں کا میلاد شریف کرنا کیسا ہے؟

جواب : عورتوں کا اس طرح سے نظم ونثر میں کچھ پڑ ھنا کہ آواز غیر محرم بھی سنیں یہ ثواب کا کا م نہیں بلکہ ناجائز ہے۔محفل میں ہو یا تنہا ہو۔اسی لئے عورتوں کو حج کے دوران بلند آواز سے تلبیہ یعنی "لبیک اللھم لبیک"کہنے اور اذان دینے کی اجازت نہیں ہے ۔{فتاویٰ رضویہ،جلد:۲۲/ص:۲۴۲}

سوال: عورتوں کا مزار شریف پر جانا کیسا ہے؟

جواب: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عورتوں کے حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے زمانہ میں فر ض نماز ادا کرنے کے لئے مسجد میں جانے سے منع کردیا جسے سارے صحابہ وصحابیات رضی اللہ عنھم وعنھن نے تسلیم کیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فر مایا کہ:آج عورتوں نے جو حال بنا لیا ہے اگر حضور ہوتے تو ان کو مسجد جانے سے ایسے ہی منع کر دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کر دیا گیا تھا۔(صحیح بخاری ،حدیث :۸۶۹)جب مسجد جانے کی اجازت نہیں ہے۔تو مزار جانے کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے۔عورتوں کا مزار شریف پر جانا ہر گز ہرگز درست نہیں ہے۔اگر چہ شوہر کی اجازت سے ہو۔

سوال: کچھ عورتیں صفر کے مہینے کی آخری بد ھ منا تی ہیں اور یہ کہتی ہیں کہ :اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیماری سے شفا یاب ہوئے تھے ، اس کی کیا حقیقت ہے؟

جواب: اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے،یہ محض بے اصل اور جہالت ہے۔مہینے کی آخری بدھ کو حضور نے غسل صحت فر مایا تھا اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

سوال: کچھ عورتیں محرم کے مہینے میں زیب وزینت نہیں کرتیں،نہ ہی کاجل و سرمہ وغیرہ لگاتی ہیں نہ چار پائی پر سوتی ہیں یہ کیسا ہے؟

جواب: یہ سب جہالت ہے ،کسی چیز کی ممانعت نہیں ہے۔

سوال: شوہر کا نام لے کر بُلانا کیسا ہے؟

جواب: شوہر کا نام لے کر پکارنا مکروہ ہے۔لیکن یہ جو مشہور ہے کہ اس سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے،بالکل غلط ہے۔ایسا کچھ نہیں ہے۔





متعلقہ عناوین



نماز کا مکمل طریقہ وضو اور غسل کے مسائل نماز کے مسائل حیض اور نفاس کے مسائل استحاضہ کے مسائل زیب وزینت کے مسائل لباس کے احکام ومسائل عدت کے مسائل حج وعمرہ کے مسائل زیورات کی زکوٰۃ کے مسائل پردہ کے مسائل



دعوت قرآن