ناخن کاٹنے کے آداب ومسائل



نا خن کاٹنا انبیائے کرام کی سنت ہے۔ [بخاری،حدیث:۵۸۹۱۔ مسلم،حدیث: ۲۵۷]
جمعہ کے دن ناخن کاٹنا مستحب ہے۔چنانچہ روایت ہے کہ:رسو ل اکرم ﷺجمعہ کے دن نماز کے لئے جانے سے پہلے مونچھ پست کرتے تھے اور اپنے ناخنوں کو کاٹتے تھے۔[شر ح السنۃ،حدیث: ۳۱۹۸]
ہاں اگر زیادہ بڑ ھ گئے ہوں تو جمعہ کا انتظار نہ کرے کہ ناخن کا بڑا ہونا اچھا نہیں کیو نکہ یہ رزق میں تنگی کا سبب بنتا ہے۔کسی دن بھی کاٹ سکتے ہیں ۔البتہ ایک ضعیف حدیث میں یہ وارد ہے کہ بدھ کے دن ناخن کاٹنے سے برص(یعنی سفید داغ کی بیماری)پیدا ہوتی ہے ۔ یہ حدیث اگر چہ ضعیف ہے لیکن جب حدیث میں ہے تو ضرورت نہ ہوتو اس سے بچنے ہی میں بھلائی ہے۔کیو نکہ بلا وجہ اپنے کو خطرے میں ڈالنا عقلمندی نہیں ہے۔
ناخن کاٹنے کا طر یقہ : ہاتھ کے ناخن کاٹنے کے دو طریقے منقول ہیں ایک یہ کہ:پہلے دا ہنے ہاتھ کی چھنگلی یعنی سب سے چھوٹی انگلی کا ناخن کاٹے،پھر بیچ والی ،پھر انگوٹھا ،پھر منجھلی اور اس کے بعد کلمہ کی انگلی ۔اور بائیں ہاتھ میں پہلے انگوٹھا پھر بیچ والی ،پھر چھنگلی،پھر کلمہ کی انگلی ،پھر منجھلی۔یعنی داہنے ہاتھ میں چھنگلی سے شروع کرے اور بائیں ہاتھ میں انگوٹھے سے اور ایک انگلی چھوڑ کر اور بعض میں دو انگلی چھوڑ کر کا ٹے ۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ اس طر ح ناخن کاٹنے سے کبھی آشوب چشم کی بیماری نہیں ہوگی۔ دوسرا طر یقہ یہ ہے کہ دا ہنے ہاتھ کے کلمہ کی انگلی سے شروع کرے اور چھنگلیاں پر ختم کرے پھر بائیں ہاتھ کی چھنگلیاں سے شروع کرکے انگوٹھے پر ختم کرے پھر داہنے ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخن تراشے۔
دوسرا طریقہ زیادہ آسان ہے اور یہ بھی حضور ﷺسے مروی ہے اس لئے اکثر علماء کا اسی پر عمل ہے ۔ پیر کے ناخن کے بارے میں کوئی ترتیب منقول نہیں ہے ۔علماء بیان کرتے ہیں کہ:پاؤں کی انگلیوں میں وضو کرتے وقت جس ترتیب سے خلال کرتے ہیں اسی ترتیب سے ناخن بھی تراشے۔یعنی داہنے پاؤں کی چھنگلی سے شروع کرکے انگوٹھے پر ختم کرے ۔پھر بائیں پیر کے انگوٹھے سے شروع کرکے چھنگلی پر ختم کرے۔
دانت سے ناخن نہ کاٹنا چا ہئے کہ یہ مکروہ ہے اور اس سے برص کی بیماری پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔کچھ لوگ سارے ناخن کاٹ لیتے ہیں اور چھنگلی یا کسی ایک ناخن کو چھوڑ دیتے ہیں یہ حضور ﷺ اور صحابہ کرام کا طر یقہ نہیں ۔
جمعہ کے دن ناخن کاٹنا چا ہئے، نہیں تو پندرہویں دن اس کی انتہائی مدت چالیس دن ہے اس سے زیادہ چھوڑنا درست نہیں ۔ مونچھ، موئے زیر ناف اور بغل کے بال کابھی یہی حکم ہے۔[صحیح مسلم،حدیث: ۲۵۸]
چار چیزوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ دفن کردی جائیں۔بال،ناخن،حیض کا لتا،خون۔اس لئے ناخن کاٹنے کے بعد اسے دفن کر دینا چا ہئے۔پاخانہ یا غسل خانہ میں انہیں ڈالنا مکروہ ہے کہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے۔[ماخوذ ،از اسلامی اخلاق وآداب،مصنفہ صدر الشریعہ علامہ امجد علی قادری رحمۃ اللہ علیہ،ص:۲۳۳۔تا۔۲۳۸]





متعلقہ عناوین



کھانے کے آداب پینے کے آداب لباس سے متعلق احکام وآداب تیل،خوشبو اور کنگھی کے مسائل وآداب گھر سے نکلنے اور گھر میں داخل ہونے کا طریقہ انگوٹھی پہننے کے مسائل سونے چاندی کے زیورات کے احکام ومسائل لوہا،تانبا،پیتل اور دوسرے دھات کے زیورات کے احکام مہندی،کانچ کی چوڑیا ں اور سندور وغیرہ کا شرعی حکم بھئوں کے بال بنوانے،گودنا گودوانے اور مصنوعی بال لگوانے کا مسئلہ سفید بالوں کو رنگنے کے مسائل حجامت بنوانے کے مسائل وآداب پاخانہ، پیشاب کرنے کے مسائل وآداب بیمار کی عیادت کے فضائل ومسائل بچوں کی پیدائش کے بعد کے کام جھا ڑ پھونک اور د عا تعو یذ کے مسائل جوتے اور چپل پہننے کے مسائل وآداب چھینک اور جماہی کے مسائل وآداب ہم بستری کے مسائل و آداب پیر کے اندر کن باتوں کا ہونا ضروری ہے؟ سونے،بیٹھنے ا و ر چلنے کے مسائل وآداب دوسرے کے گھر میں داخل ہونے کے مسائل وآداب سلام کرنے کے مسائل مصافحہ،معانقہ اور بوسہ لینے کے مسائل ماں باپ یا بزرگوں کا ہاتھ پیر چومنا اور ان کی تعظیم کے لئے کھڑے ہونے کا مسئلہ ڈ ھول،تاشے،میوزک ا و ر گانے بجانے کا شرعی حکم سانپ،گرگٹ اور چیونٹی وغیرہ جانوروں کومارنے کے مسائل منت کی تعریف اور اس کے احکام ومسائل قسم کے احکام ومسائل اللہ کے لئے دوستی اور اللہ کے لئے دشمنی کا بیان غصہ کرنے اور مارنے پیٹنے کے مسائل غیبت،چغلی،حسد اور جلن کے شر عی احکام موت سے متعلق احکام و مسائل



دعوت قرآن