التحیات میں کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے شہادت کی انگلی کیسے اٹھائی جائے اور اس کے بعد کس کیفیت میں رکھی جائے؟ اس سلسلے میں لوگ تین طریقے پر عمل پیرا ہیں۔
کچھ لوگ انگلی اٹھا کر اسے بار بار اوپر نیچے کی طرف مسلسل حرکت دیتے رہتے ہیں۔
کچھ لوگ دائیں ہاتھ کی سب سے چھوٹی اور ساتھ والی اُنگلی بند کرکے، انگوٹھے اور بیچ والی انگلی کا حلقہ بنا کر کلمہ شہادت سے اشارہ کرتے ہیں پھر اسے نیچے گرالیتے ہیں،لیکن نیچے گرانے کے بعد ا نگلیوں کو پہلے کی طرح کھولتے نہیں ہے بلکہ آخر تک انگلیوں کا حلقہ بنائے ہی رکھتے ہیں۔
اور زیادہ تر لوگ دائیں ہاتھ کی سب سے چھوٹی اور ساتھ والی اُنگلی بند کرکے، انگوٹھے اور بیچ کی اُنگلی کا حلقہ بناکر کلمہ ”لَا“پر شہادت کی اُنگلی سے اشارہ کرتے ہیں اور”اِلَّا“پررکھ دیتے ہیں اورسب اُنگلیاں پہلےکی طرح سیدھی کرلیتے ہیں ۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں،ان کے پاس کیا دلائل ہیں،اور وہ دلائل کس حد تک درست ہیں؟ انہیں سب باتوں کا ہم ذیل میں جائزہ لیں گے۔
"تشہد میں مسلسل انگلی کو حر کت دینے والوں کے دلائل
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ زَائِدَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنِى أَبِى أَنَّ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ قَالَ قُلْتُ لأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَيْفَ يُصَلِّى فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَوَصَفَ قَالَ ثُمَّ قَعَدَ وَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا
ترجمہ:امام نسائی کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دیا سوید بن نصر نے،وہ کہتے ہیں ہمیں بتایا عبد اللہ بن مبارک نے ،وہ روایت کرتے ہیں زائدہ سے،اور زائدہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے حدیث بیان کیا عاصم بن کلیب نے ،وہ کہتے ہیں کہ ہم سے حدیث بیان کی صحابی رسول وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے [اپنے دل میں ]کہاکہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازکوضروردیکھوں گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نمازپڑھتے ہیں ،چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازکودیکھا،پھرصحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازکاطریقہ بیان فرمایااورکہاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اوربایاں پاؤں بچھایا،اوربائیں ہتھیلی بائیں ران اورگھٹنے پررکھی اوردائیں ہاتھ کی کہنی دائیں طرف کی ران کے برابرکی ،پھردوانگلی بند کرلی،اورایک حلقہ باندھ لیا،پھرانگلی اٹھائی تومیں میں نے دیکھاآپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کوہلاتے تھے اوراس سے دعاء کرتے تھے۔ [نسائی : کتاب السھو:باب قبض الثنتین من أصابع الیدالیمنی وعقد الوسطی، رقم1268]
اس حدیث سے ثابت ہواکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی کو حرکت دیا۔اس لئے یہ حضرات بھی اس کو سنت سمجھ کر حرکت دیتے رہتے ہیں۔
وضاحت:اس روایت کا اصل جواب پڑھنے سے پہلے ایک بات کو سمجھ لینا ضروری ہے۔ وہ بات یہ ہے کہ: جب بولا جاتا ہے کہ کسی روایت کا یہ لفظ شاذ ہے تو محدثین کے نزدیک اس کا مطلب کیا ہوتا ہے اور ایسے الفاظ کا حکم کیا ہوتا ہے؟
شاذ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک ثقہ (قابلِ اعتماد) راوی، اپنے سے زیادہ ثقہ یا زیادہ قابلِ اعتماد راویوں کے خلاف روایت بیان کرے۔یعنی باقی سارے ثقہ راوی ایک بات بیان کریں اور ایک ثقہ راوی اس کے مقابلے میں کوئی اور بات یا مختلف بات بیان کرے۔
شاذ حدیث کا حکم یہ ہوتا ہے اسے رد کر دیا جائے گا ، یعنی جو راوی اکیلے سب کے خلاف یا سب سے الگ کوئی بات بیان کر رہا ہے ان کی روایت کو رد کر دی جاے گی اور اس روایت کے مطابق عمل کیا جاے گا جسے باقی سب لوگ بیان کر رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ سب راوی ان سے زیادہ ثقہ اور قابل اعتماد ہوتے ہیں۔
اب آئیے اس روایت کو دیکھتے ہیں جس سے تشہد میں انگلی کو حرکت دینا ثابت ہوتا ہے۔
اس روایت کے بارے میں محدثین کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے لیکن اس روایت میں یہ جملہ کہ"میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حرکت دیتے ہوئے دیکھا" شاذ ہے۔ جیسا کہ المعجم المفھرس لالفاظ الحدیث النبوی میں ہے۔
حديث صحيح دون قوله: "فرأيتُه يُحرِّكها" فهو شاذٌّ انفرد به زائدة - وهو ابن قُدامة الثقفي - من بين أصحاب عاصم بن كُليب۔
ترجمہ:"یہ حدیث صحیح ہے لیکن یہ جملہ کہ میں نے انہیں حرکت دیتے ہوئے دیکھا، شاذ ہے جسے عاصم بن کلیب کے اصحاب میں سےصرف راوی زائدہ یعنی ابن قدامہ ثقفی نے بیان کیا ہے"۔
امام ابن خزیمہ نے اپنی کتاب "صحیح ابن خزیمہ" میں اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد اس جملہ کے شاذ ہونے کی تصریح فرمائی۔وہ لکھتے ہیں
ليس في شيء من الأخبار يحركها إلا في هذا الخبر زائد۔
ترجمہ:اس روایت کے علاوہ کسی بھی روایت میں"انگلی کو حرکت دینے " کی بات نہیں آئی ہے۔[صحیح ابن خزیمہ،کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الیدین علی الرکبتین فی التشہد،حدیث: ۷۱۴]
اس کے علاوہ امام بیہقی،امام نووی، امام ابن قدامہ حنبلی اور ملا علی قاری وغیرہ نے بھی تشہد میں انگلی کو حرکت دینے والی بات کو شاذ قرار دیا ہے۔
کیونکہ اس روایت کو عاصم بن کلیب سے زائدہ راوی کے علاوہ ١١/ راویوں نے بیان کیا ہے۔ جس میں سفيان بن عیینہ، خالد الواسطي ،قيس بن الربيع، سلام بن سليم ،سفيان الثوري ،بشر بن مفضل اور شعبہ وغیرہ ہیں۔ مگر ان میں سے کسی نے بھی یہ جملہ کہ "میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حرکت دیتے ہوئے دیکھا" بیان نہیں کیا ہے۔ سب نے صر ف اتنا ہی بیان کیا ہے کہ حضور ﷺ نے انگلی کا اشارہ فرمایا۔
جیسے آپ اس روایت کو دیکھیں جسے حضرت سفیان نے حضرت عاصم بن کلیب سے بیان کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّقِّىُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - وَهُوَ ابْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِىُّ - قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ رَأَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- جَلَسَ فِى الصَّلاَةِ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ يَدْعُو بِهَا۔
ترجمہ:امام نسائی کہتے ہیں ہمیں خبر دیا محمد بن علی بن میمون نے، وہ کہتے ہیں ہم سے حدیث بیان کیا محمد یعنی ابن یوسف فریابی نے،وہ کہتے ہیں ہم سے حدیث بیان سفیان نے ،وہ کہتے ہیں ہم سے حدیث بیان کیا عاصم بن کلیب نے ،وہ روایت کرتے ہیں اپنے والد سے ،وہ صحابی رسول حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں بیٹھے تو آپ نے اپنا بایاں پاؤں بچھایا، اور اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں رانوں پر رکھا، اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا، آپ اس کے ذریعہ دعا کر رہے تھے۔[سنن نسائی،کتاب السھو،باب موضع الذراعین،حدیث:۱۲۶۵]
لہذا معلوم ہوا کہ حرکت دینے والی بات صرف زائدہ راوی نے بیان کیا ہے۔ یعنی یہ جملہ شاذ ہے۔ اور زیادہ ثقہ راویوں کی روایت کے خلاف ہے۔اور آپ اوپر پڑھ چکے ہیں کہ شاذ کو قبول نہیں بلکہ رد کر دیا جاتا ہے۔ اس لئے اس روایت کی بنیاد پر تشہد میں انگلی کو مسلسل حرکت دینے کو سنت قرار دینا بالکل صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ یہ محدثین کے اصولوں کے خلاف ہے۔
نوٹ: یہ لوگ حضرت وائل بن حجر کی روایت جس میں حرکت دینے کا لفظ وارد ہوا ہے کہ بعد متصلا ایک روایت کا یہ لفظ ذکر کرتے ہیں کہ "حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
ِلهي أشد على الشيطان من الحديد يعني السبابة۔یہ شیطان پر لوہے کی مار سے بھی زیادہ سخت ہے"۔ اور ایساظاہر کرتے ہیں جیسے کہ یہ جملہ بھی اسی روایت کا آخری حصہ ہو،اور بار بار حرکت دینا شیطان کے لئے بہت تکلیف دہ ہے۔
جب کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔یہ ایک الگ حدیث ہے ۔وہ یہ ہے
عن نافع قال : كان عبد الله بن عمر إذا جلس في الصلاة وضع يديه على ركبتيه وأشار بأصبعه واتبعها بصره ثم قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لهي أشد على الشيطان من الحديد يعني السبابة
ترجمہ:حضرت نافع کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے اور اس پر اپنی نگاہ رکھتے پھر فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شہادت والی انگلی شیطان کے لئے لوہے سے بھی زیادہ سخت ثابت ہوتی ہے۔[مسند احمد،مسند المکثرین من الصحابہ،مسند عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ،حدیث: ۶۰۰۰]
اس حدیث میں صاف ہے کہ سیدنا ابن عمر اشارہ کرتے اور اسی اشارہ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ذکر کرتے ، جس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ جب بندہ مومن کلمہ کی انگلی اٹھا کر سارے معبودان باطل کی نفی کر کے ایک اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے تو یہ شیطان پر لوہے کی مار سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے۔ یہاں پر حرکت کا کوئی ذکر نہیں ہے مگر یہ لوگ اس حدیث کو حرکت سے جوڑ کر لوگوں کو حدیث کے نام پر کھلا فریب دیتے ہیں۔
اور لطف کی بات یہ ہے کہ جب ان لوگوں کے سامنے کوئی ایسی ضعیف حدیث بیان کی جاتی ہے جو ان کے نظرِیے کے خلاف ہوتا ہے تو یہ لوگ فورا اس کو "ضعیف " کہہ کر رد کردیتے ہیں اور اسے بالکل ہی قابل اعتبار نہیں سمجھتے، اور اس حدیث کے ساتھ ایسا رویہ اپناتے ہیں جیسے یہ کوئی گڑھی ہوئی حدیث ہو۔ مگر جب کسی ضعیف حدیث سے ان کی بات ثابت ہوتی ہے تو پھر یہی لوگ اس ضعیف حدیث کو اپنا عقیدہ اور نظریہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور خوب زور شور سے ہر جگہ بیان کرتے ہیں ۔ جیسے یہی حدیث جس میں کہا گیا کہ "یہ شیطان کے لئے لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے"یہ حدیث "کثیر بن زید اسلمی "راوی کی وجہ سے ضعیف ہے،مگر یہ حضرات اس کو خوب بیان کرتے ہیں اور اسے اپنے نظریے کی سب سے مظبوط دلیل سمجھتے ہیں۔ جب کہ اس سے ان کا نظریہ ثابت ہی نہیں ہوتا۔
تشہد میں انگلی کو مسلسل اوپر نیچے کی طرف حرکت دینے کا موقف سب سے پہلے ناصر الدین البانی اور شیخ عثمین نے اپنا یا،اور فحش غلطی کا ارتکاب کیا جس کی مکمل تفصیل اوپر بیان کر دی گئی ہے، اس سے پہلے امت میں کسی نے اس کا قول نہیں کیا۔مگر یہ لوگ امام احمد بن حنبل کے ایک جواب سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کا بھی یہی موقف تھا،جبکہ یہ بالکل غلط ہے۔
امام احمد بن حنبل سے سوال کیا گیا کہ
ِهل يشير الرجل بأصبعه فى الصلاة؟ کیا آدمی نماز میں اپنی انگلی سے اشارہ کرے؟ تو انہوں نے جواب دیا:نعم شديداً. ہاں ! سختی سے۔ اس لفظ شدید سے ان لوگوں نے بار بار حرکت دینا سمجھ لیا اور حرکت کو امام احمد بن حنبل سے جوڑ دیا جب کہ فقہ حنبلی کے سبھی معتبر کتابوں میں صاف صاف لکھا ہوا ہے کہ سنت اشارہ کرنا ہے حرکت دینا نہیں۔ كما فى "المغني" ٢/ ٢١٧ أنه يشير بها ولا يحركها۔
حاصل کلام یہ ہے کہ تشہد میں انگلی کو اوپر نیچے کی طرف مسلسل حرکت دینے پر کوئی صحیح دلیل نہیں ہے۔اور یہ نماز میں خشوع وخضوع کے بھی خلاف ہے،اس لئے یہ موقف درست نہیں ہے۔
تشہد میں حلقہ بنا کر انگلی سے اشارہ کرنا اور آخرتک حلقہ بنائے رکھنا۔
کچھ لوگوں کا موقف یہ ہے کہ تشہد میں دائیں ہاتھ کی سب سے چھوٹی اور ساتھ والی اُنگلی بند کرکے، انگوٹھے اور بیچ والی انگلی کا حلقہ بنا کر کلمہ شہادت سے اشارہ کرتے ہیں پھر اسے نیچے گرالیں،لیکن نیچے گرانے کے بعد ا نگلیوں کو پہلے کی طرح کھولے نہیں ہے بلکہ آخر تک انگلیوں کا حلقہ بنائے رکھیں۔
یہ حضرات اپنے موقف پر دلیل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حدیث شریف میں یہ آیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کرتے وقت انگلیوں کا حلقہ بنایا،مگر پھر اس کے بعد انگلیوں کو پہلے کی طرح کھول دیا،یہ نہیں آیا ہے،اور چونکہ انگلیوں کے حلقہ کو کھول دینے کا حکم بھی کسی حدیث میں نہیں آیا ہے۔اس لئے آخر تک حلقہ بنائے رکھنا چاہئیے۔
جواب:پہلی بات یہ سمجھ لینی چاہئے کہ حلقہ بنایا کس لئے؟ ظاہر ہے اشارہ کے لئے۔تو جب اشارہ ہوگیا اس کے بعد بھی حلقہ قائم رکھنا ،بے مقصد ہے۔اس لئے یہ دلیل صحیح نہیں ہے۔رہی بات کہ حدیث میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےاشارہ کرنے کے بعد انگلیوں کا حلقہ کھول دیا یا نہیں،تو اس سے یہ سمجھنا کہ آخر تک حلقہ بنائے رکھنا ہے اور صرف سمجھنا نہیں بلکہ اسی کو سنت ماننا،عقل ونقل کے خلاف ہے۔عقل کے خلاف اس لئے ہے کہ عقل یہ کہتی ہے کہ حلقہ اشارہ کے لئے بنایا گیا تھا اور جب اشارہ ہو گیا تو اب اس حلقے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جیسے اشارہ سے پہلے حلقہ کی ضرورت نہیں تھی ۔اور نقل کے خلاف ہے جیسا کہ حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں حضرت علامہ سید احمد طحطاوی مصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :
والعقد وقت التشہد فقط فلا یعقد قبل ولا بعد وعلیہ الفتوی۔حلقہ کلمہ شہادت کے وقت ہوگا،نہیں اس سے پہلے اور نہیں اس کے بعد اور اسی پر فتویٰ ہے۔[حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح،فصل فی بیان واجب الصلاۃ،۱/۱۸۰]
"وعلیہ الفتویٰ" سے ظاہر ہوا کہ اس سلسلے میں کچھ اور بھی اقوال ہیں لیکن فتویٰ اسی پر ہے حلقہ صرف اشارہ کے وقت ہوگا ،نہیں اس سے پہلے اور نہیں اس کے بعد۔
یہاں ایک لطف کی بات یہ ہے کہ یہ حضرات کہتے ہیں کہ حضور نے حلقہ بنایا ،یہ حدیث میں آیا لیکن حلقہ کھول دیا ،یہ حدیث میں نہیں آیا ،اس لئے ہم آخر تک حلقہ بنائے رکھیں گے۔پھر ان حضرات کو چاہِئے تھا کہ اشارہ کے لئے انگلی اٹھائے اور آخرتک اٹھائے ہی رکھے،کیونکہ حدیث میں انگلی اٹھانے کا ذکر تو ہے لیکن رکھنے کا ذکر نہیں آیا ہے۔مگر یہی لوگ کہتے ہیں کہ جب اشارہ ہوگیا تو اب اٹھائے رکھنا بے معنیٰ ہے۔تو ان حضرات کو حلقہ کے معاملے میں بھی یہی بات پیش نظر رکھنا چاہئے۔
اس سے سلسلے میں تیسرا موقف یہ ہے کہ اشارہ کیا جائے انگلی کو مسلسل حرکت نہیں دیا جائے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ اس سے متعلق جتنی بھی صحیح احادیث آئیں ہیں سب میں صرف یہی ہے کہ حضور صلی اللہ نے اشارہ فرمایا ، ہم یہاں بطور اختصار چندروایات پیش کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُعَاوِيِّ أَنَّهُ قَالَ رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَعْبَثُ بِالْحَصَى فِي الصَّلَاةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ نَهَانِي فَقَالَ اصْنَعْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فَقُلْتُ وَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ قَالَ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلَاةِ وَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى
ترجمہ:امام مالک نے مسلم بن ابی مریم سے اور انہوں نے علی بن عبدالرحمن معادی سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ میں نماز کے دوران (بے خیالی کے عالم میں نیچے پڑی ہوئی) کنکریوں سے کھیل رہا تھا۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو مجھے منع کیا اور کہا: ویسے کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے میں نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بیٹھتے تو اپنی دائیں ہتھیلی اپنی داہنی ران پر رکھتے اور سب انگلیوں کو بند کر لیتے اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کرتے اور اپنی بائیں ہتھیلی کو اپنی بائیں ران پر رکھتے۔[صحیح مسلم،کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب صفۃ الجلوس فی الصلاۃ وکیفیۃ وضع الیدین علی الفخذین،حدیث:۱۳۱۱]
عَنْ مَالِكٍ - وَهُوَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِىِّ - عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَاضِعًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى فِى الصَّلاَةِ وَيُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ.
ترجمہ:حضرت مالک اپنے والد نمیر خزاعی سے روایت کرتے ہیں ،وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنے داہنی ہاتھ کو دائیں ران پر رکھتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے۔[سنن نسائی،کتاب السھو،باب الاشارۃ بالاصبع فی التشہد،حدیث:۱۳۷۲]
عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُشِيرُ فِى الصَّلاَةِ.
ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اشارہ کرتے تھے۔ [سنن ابو داؤد، کتاب الصلاۃ،باب الاشارۃ فی الصلاۃ،حدیث:۹۴۴]
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْمِصِّيصِىُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ زِيَادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلاَ يُحَرِّكُهَا.
ترجمہ:امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ مجھ سے حدیث بیان کیا ابراہیم بن حسن المصیصی نے ،وہ کہتے ہیں کہ مجھے سے حدیث بیان کیا حجاج نے ،وہ روایت کرتے ہیں ابن جریج سے،وہ روایت کرتے ہیں زیاد سے،وہ روایت کرتے ہیں محمد بن عجلان سے،وہ عامر بن عبد اللہ سے،وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے،وہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب تشہد پڑھتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے اور اسے حرکت نہیں دیتے تھے۔[ابوداؤد،کتاب الصلاۃ،باب الاشارۃ فی التشہد،حدیث:۹۸۹]
اس روایت میں دو لفظ بہت ہی اہم ہیں،ان میں سے ایک "کان یشیر" ہے۔ یہ ماضی استمراری کا صیغہ ہے،جس سے کسی چیز کا تسلسل اور دوام کے ساتھ ہونا ثابت ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ ہمیشہ اشارہ ہی کرتے تھے یعنی یہی آپ کی عادت مبارکہ تھی ۔ اور دوسرا لفظ ہے "لایحرکھا" اور یہ اسی پر عطف ہے ۔یعنی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انگلی کو کبھی حرکت نہیں دیتے تھے۔ اب چونکہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی یہ صاف اور واضح حدیث ان حضرات کے خلاف ہے اس لئےان کے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ اس حدیث کو ضعیف قرار دیا جائے ۔چنانچہ شیخ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کے ایک راوی "محمد بن عجلان" کو ضعیف قرار دینے کی کوشش کی،اور ان کی وجہ سے کہا کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔جب کہ شیخ ناصر الدین البانی سے کروڑوں درجہ بڑے محدث امام نووی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اورصحیح بخاری شریف کی سب سے مشہور شرح لکھنے والے امام المحدثین علامہ ابن حجر نے محمد بن عجلان راوی کے بارے میں کہا کہ "احد العلماء العاملین" وہ اپنے وقت میں پوری دنیا کے بڑے عالموں میں سے ایک زبردست عالم تھے۔ اور یہ کہہ کر ان کو انتہائی قابل اعتماد اور ثقہ قرار دیا ۔امام حاتم رازی اور امام نسائی نے بھی ثقہ قرار دیا ہے جیسا کہ تہذیب الکمال میں ہے :
وقال أبو حاتم، والنسائي: ثقة [تھذیب الکمال ۲۶/۱۰۱امام ابوزرعہ نے بھی ابن عجلان کو ثقات میں سے تسلیم کیا ہے جیسا کہ تہذیب التہذیب میں ہے"وقال أبو زرعة: ابن عجلان من الثقات" ان کے علاوہ امام احمد بن حنبل،عبد اللہ بن المبارک، امام یحیٰ بن معین،امام ابن حبان،سفیان بن عیینہ وغیرہ ان سب نے"محمد بن عجلان" کو ثقہ مانا ہے۔ اس لئے محمد بن عجلان راوی کو ضعیف راوی کہنا بالکل غلط ہے۔
بہر کیف مذکورہ بالا روایات سے یہ ثابت ہوگیا کہ اشارہ کرنا سنت ہے حرکت دینا نہیں۔اب رہی بات کہ یہ اشارہ تشہد میں ہو نماز کے آخرتک نہ ہو اس کی کیا دلیل ہے۔تو اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَليْهِ وسَلَّمَ قَدْ حَلَّقَ الإِبْهَامَ وَالْوُسْطَى ، وَرَفَعَ الَّتِي تَلِيهِمَا ، يَدْعُو بِهَا فِي التَّشَهُّدِ.
ترجمہ:حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے انگوٹھے اور بیچ والی انگلی کا حلقہ بنایا اور اس سے متصل[شہادت کی]انگلی کو اٹھایا،اس سے تشہد میں اشارہ کر رہے تھے۔ [ابن ماجہ،کتاب الصلاۃ،باب الاشارۃ فی التشہد،حدیث:۹۱۲]
اس حدیث کو امام ابوداود،امام نسائی اور امام احمد بن حنبل نے بھی روایت کیا ہے اور بالاتفاق یہ حدیث صحیح ہے۔ اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشہد ہی میں اشارہ کرتے تھے،آخر نماز تک نہیں۔ اب رہا یہ کہ کلمہ لا الہ پر اٹھائے اور الا اللہ پر گرایا کیوں جاتا ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جو کچھ دل و دماغ میں ہوتا ہے اس کو ظاہر کرنے کے دو طریقے ہیں،ایک زبان کے ذریعے کلام کر کے اور دوسرا اشارہ کے ذریعے۔تو لاالہ پر انگلی اٹھا کر بندہ مومن اشارہ کے ذریعے یہ کہتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور الااللہ پر گرا کر اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ معبود صرف ایک ہے۔یہی مطلب ہے اس اشارے کا جو تشہد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھَے۔یہی وجہ ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو دیکھا کہ وہ اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کر رہے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"احّد احّد" ایک،ایک، یعنی ایک خدا کے لئے صرف ایک انگلی کا اشارہ کرو۔ امام بیہقی نے "السنن الکبریٰ" میں ایک باب باندھا کہ
"باب مَا يَنْوِى الْمُشِيرُ بِإِشَارَتِهِ فِى التَّشَهُّدِ"تشہد میں اشارہ کرنے والا اشارہ کرتے وقت کیا نیت کرے؟ اور اس کے تحت حدیث بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشہد میں اشارہ کرتے تو مشرکین کہتے کہ یہ اشارہ کے ذریعے ہم لوگوں پر جادو کرتے ہیں جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی توحید بیان کرنے کے لئے اشارہ کرتے تھے۔[السنن الکبریٰ ،حدیث:۲۹۰۴] اب ظاہر ہے کہ توحید کے بیان کے لئے اشارہ اسی وقت ہوگا جب تو حید کا لفظ پڑھا جا رہا ہو۔اسی طرح مختلف احادیث میں جو یہ لفظ آیا کہ "یدعو بھا، او اذا دعا" وغیرہ تو اس کا بھی مطلب محدثین نے یہی بیان کیا ہے کہ"ای یشیر بھا، او اشار بھا" یعنی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کلمہ شہادت پڑھتے تو اشارہ کرتے تھے۔اس لفظ "یدعو بھا یا اذا دعا" سے کچھ لوگوں کو غلط فہمی ہوئی اور ان لوگوں نے اس سے یہ سمجھ لیا کہ قعدہ کے آخر تک اشارہ کرنا ہے کیونکہ دعا آخر میں ہوتی ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے دعا سے مراد یہاں پر کلمہ شہادت ہے اور حدیث کا مطلب یہ ہے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کلمہ شہادت پڑھتے تو اشارہ کرتے تھے۔اب رہی بات کہ کلمہ شہادت کو دعا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے کلمہ توحید وشہادت کو دعا قرار دیا ہے۔جیسا کہ ترمذی شریف میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:عرفہ کے دن کی سب سے بہترین دعا جو میں نے اور مجھ سے پہلے کے انبیاء نے مانگی یہ ہے
" لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ "
ترجمہ:اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،وہ یکتا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں،اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔[ترمذی،کتاب الدعوات،حدیث:۳۹۳۴]
اب غور کیجئے اس میں صرف اللہ کریم کی وحدانیت اور اس کی قدرت کا بیان ہے،اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بہترین دعا فرما رہے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ کلمہ شہادت بھی دعا ہے۔اور یہ جو حدیث میں آیا کہ جب حضور دعا کرتے تو اشارہ کرتے اس کا مطلب یہی ہے کہ جب حضور دعا کرتے یعنی کلمہ شہادت پڑھتے تو اشارہ کرتے۔اس لئے ان الفاظ سے یہ سمجھنا کہ حضور آخر نماز تک اشارہ کرتے تھے بالکل غلط ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔
نماز کی اہمیت وفضیلت نماز پڑھنے کا طریقہ نماز کے شرائط وفرائض نماز کے واجبات اورسنتیں نماز کے مکروہات نماز کے مفسدات سجدہ سہو کے مسائل قراءت میں غلطی کے مسائل نماز جنازہ کے مسائل نماز تراویح کے مسائل نماز تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد نماز اشراق اور چاشت نماز توبہ اور تہجد نماز حاجت نماز استخارہ سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز عیدین کی نماز مسافر کی نماز مریض کی نماز