حج ۲۰۲۶ء کے موقع پر سعودی عرب کی طرف سے حاجیوں کے لئے بعض نئے ضابطے نافذ کئے گئے جن میں ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ اس سال کوئی بھی حاجی نجی طور پر یا اپنے ٹور آپریٹرزکے ذریعے قربانی نہیں کر سکے گا، بلکہ سب کی قربانیاں سرکاری نظام کے تحت انجام دی جائیں گی۔
اس نئی صورت حال کی وجہ سے فقہ حنفی پر عمل کرنے والے حاجیوں کو عملی طور پر کچھ پیچیدگیاں پیش آ سکتی ہیں۔ مثلا رمی کرنے کے بعد وہ حلق کرا لیا جب کہ ابھی اس کی قربانی نہیں ہوئی تھی،یا اس کے رمی کرنے سے پہلے ہی اس کی قربانی ہوگئی وغیرہ یعنی ترتیب کی رعایت ایک مشکل مسئلہ ہو جائے گا۔اس لئے برصغیر کے اکابر مفتیان عظام نے اپنے اپنے طور پر حاجیوں کے لئے شرعی رہنمائی فراہم کیا، اللہ کریم ان سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ ان سب کے درمیان بعض حلقوں سے احناف کے موقف کہ "ان امور میں ترتیب واجب ہے"پر دلخراش تنقیدیں بھی کی گئیں۔ حالانکہ یہ موقف محض راۓ نہیں، بلکہ مضبوط شرعی دلائل پر قائم ہے۔ اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اس مسئلے کی حقیقت کو قرآن واحادیث کی روشنی میں نہایت اختصار مگر وضاحت کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ عام مسلمان بھی اختلاف کی نوعیت اور ہر موقف کے دلائل کو سمجھ سکیں۔
بے شک اللہ ہی خیر کی توفیق بخشنے والا ہے۔
حج میں رمی قربانی اور حلق کے درمیان ترتیب واجب ہے یا نہیں؟
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
وَقَفَ النَّبِيُّ ﷺ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ: اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ۔ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: لَمْ أَشْعُرْ فَذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فَقَالَ: ارْمِ وَلَا حَرَجَ۔ قَالَ: فَمَا سُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ: افْعَلْ وَلَا حَرَجَ
ترجمہ:حضور نبی کریم ﷺ حجۃ الوداع میں منیٰ میں لوگوں کے لیے کھڑے تھے اور لوگ مسائل پوچھ رہے تھے۔ ایک شخص نے عرض کیا: میں نے لاعلمی میں قربانی سے پہلے حلق کر لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔ پھر دوسرے شخص نے کہا: میں نے لا علمی کی وجہ سےرمی سے پہلے قربانی کر لی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اب رمی کر لو، کوئی حرج نہیں۔ راوی کہتے ہیں: جس چیز کے بارے میں بھی تقدیم و تاخیر کے ساتھ سوال کیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: کر لو، کوئی حرج نہیں۔
[صحیح مسلم ،کتاب الحج، باب من حلق قبل النحر أو نحر قبل الرمي،حدیث:۱۳۰۶]
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رضى الله عنهما - قَالَ سُئِلَ النَّبِىُّ - صلى الله عليه وسلم - عَمَّنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ وَنَحْوِهِ . فَقَالَ « لاَ حَرَجَ ، لاَ حَرَجَ
ترجمہ:ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے قربانی سے پہلے حلق کرا لیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: کوئی حرج نہیں ہے،کوئی حرج نہیں ہے۔[صحیح بخاری،کتاب الحج،باب الذبح قبل الحلق،حدیث: ۱۷۲۱]
انہیں احادیث کی بنیاد پر امام مالک،سفیان ثوری،امام اوزاعی،امام شافعی،امام احمد،امام اسحاق اور امام ابویوسف و امام محمد وغیرہ کہتے ہیں کہ جس نے حج میں قربانی سے پہلے حلق کرا لیا اس پر دم یا کفارہ کچھ بھی لازم نہیں آئے گا۔ یعنی ان کے یہاں رمی،قربانی اور حلق کے درمیان ترتیب واجب نہیں بلکہ سنت ہے ۔جیسا کہ حدیث پاک سے ظاہر ہے۔اور یہی موجودہ اہل حدیث کا بھی موقف ہے۔
احناف کا نظریہ اور ان کے دلائل:
احناف کے نزدیک رمی،قربانی اور حلق میں ترتیب واجب ہے،اگر کسی شخص نے رمی سے پہلے قربانی کر لیا یا قربانی سے پہلے حلق کر لیا تو ترکِ واجب کی وجہ سے اس پر دم لازم ہوگا۔جیساکہ حضرت عبد اللہ بن مسعود اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ:
ُمَنْ قَدَّمَ شَيْئًا مِنْ حَجِّهِ ، أَوْ أَخَّرَهُ ، فَلْيُهْرِقْ لِذَلِكَ دَمًا.
ترجمہ:جس شخص نے حج کے اعمال میں سے کسی عمل کو آگے پیچھے کیا (یعنی ترتیب بدل دی)، تو اس پر اس کی وجہ سے ایک دم (قربانی) لازم ہے۔[مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب المناسک،باب فی الرجل یحلق قبل ان یذبح،حدیث: ۱۵۱۸۸]
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
"وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ "
ترجمہ:اور تم اپنے سر نہ منڈاؤ یہاں تک کہ قربانی اپنی جگہ پر پہونچ جائے۔ (یعنی قربانی ہوجائے)[سورہ بقرہ،آیت: ۱۹۶]
اس آیت کریمہ میں واضح طور سے قربانی سے پہلے حلق سے منع کر دیا گیا،اس سے معلوم ہوا کہ شریعت نے پہلے قربانی اور اس کے بعد حلق کی ترتیب مقرر فرمائی ہے۔
نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ"
ترجمہ:جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو[ جس کی وجہ سے وہ قربانی سے پہلے ہی حلق کرا لے] تو روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دے۔[سورہ بقرہ،آیت: ۱۹۶]
اس آیت کریمہ میں اس شخص کا حکم بیان کیا گیا جو بیماری یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے قربانی سے پہلے حلق کرا لے تو اس پر فدیہ لازم کیا گیا کہ وہ تین روزے رکھے یا چھ مساکین کو صدقہ دے یا پھر قربانی کرے۔تو وہ شخص جس نے بغیر کسی عذر اور مجبوری کے قربانی سے پہلے حلق کرا لیا تو اس پر بدرجہ اولیٰ دم لازم ہوگا۔اور یہی امام اعظم ابو حنیفہ کا موقف ہے۔ان دلائل سے واضح ہوا کہ امام اعظم ابوحنیفہ کا نظریہ قرآن وحدیث کے بالکل موافق ہے۔
احادیث "لاحرج" کا جواب
اب رہی یہ بات کہ حجۃ الوداع میں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ لوگوں نے سوال کیاکہ "میں قربانی سے پہلے حلق کرالیا " تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کوئی حرج نہیں ہے،اب قربانی کر لو" اس کا کیا جواب ہے؟
علامہ بد ر الدین عینی لکھتے ہیں:
"ثم أجاب أبو حنيفة عن حديث الباب ونحوه أن المراد بالحرج المنفي هو الإثم ولا يستلزم ذلك نفي الفدية وقال الطحاوي هذا ابن عباس أحد من روى عن النبي أنه ما سئل يومئذ عن شيء قدم ولا أخر من أمر الحج إلا قال لا حرج فلم يكن معنى ذلك عنده على الإباحة في تقديم ما قدموا ولا تأخير ما أخروا مما ذكرنا أن فيه الدم ولكن معنى ذلك عنده على أن الذي فعلوه في حجة النبي كان على الجهل بالحكم فيه كيف هو فعذرهم لجهلهم وأمرهم في المستأنف أن يتعلموا مناسكه"
ترجمہ:پھر امام ابو حنیفہ نے اس باب کی حدیث اور اس جیسی دوسری احادیث کا یہ جواب دیا کہ وہاں جس "حرج" کی نفی کی گئی ہے، اس سے مراد گناہ کی نفی ہے، اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ فدیہ بھی ساقط ہو جائے۔[جیسے مجبوری کی صورت میں قربانی سے پہلے حلق کرالینے میں حرج نہیں ہے،لیکن فدیہ ساقط نہیں ہوگا۔ابرار]
اور امام طحاوی نے فرمایا: یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، جو ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا کہ اُس دن آپ ﷺ سے حج کے کسی ایسے عمل کے بارے میں سوال نہیں کیا گیا جسے آگے یا پیچھے کر دیا گیا ہو، مگر آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔
لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہماکے نزدیک اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اعمالِ حج کو آگے پیچھے کرنا مطلقاً جائز ہے، یا ان صورتوں میں دم واجب نہیں ہوگا جن کا ہم ذکر کر چکے ہیں،بلکہ ان کے نزدیک اس کا مطلب یہ تھا کہ جن لوگوں نے نبی ﷺ کے حج میں ایسا کیا، انہوں نے یہ حکم نہ جاننے کی وجہ سے کیا تھا، اس لیے آپ ﷺ نے ان کے جہل کی بنا پر انہیں معذور قرار دیا، اور آئندہ کے لیے انہیں حکم دیا کہ اپنے مناسکِ حج سیکھیں۔
نماز کی اہمیت وفضیلت نماز پڑھنے کا طریقہ نماز کے شرائط وفرائض نماز کے واجبات اورسنتیں نماز کے مکروہات نماز کے مفسدات سجدہ سہو کے مسائل قراءت میں غلطی کے مسائل نماز جنازہ کے مسائل نماز تراویح کے مسائل نماز تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد نماز اشراق اور چاشت نماز توبہ اور تہجد نماز حاجت نماز استخارہ سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز عیدین کی نماز مسافر کی نماز مریض کی نماز