کچھ تعلیم یافتہ لوگ کہتے ہیں کہ اہل سنت کے علماء نے بلاوجہ کی سختی لوگوں پر کر رکھی ہے کہ ایک شخص کچھ تاخیر سے سحری کے وقت بیدار ہوا اور پھر اچانک اذان ہو گئی تو یہ لوگ چند گھونٹ پانی بھی پینے کی اجازت نہیں دیتے اور کہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے روزہ نہیں ہوگا۔ یہ بے جا سختی ہے ۔ صحیح بات یہ کہ اگرچہ اذان ہو رہی ہو پانی پی سکتا ہے بلکہ کچھ کھا رہا ہو تو اسے مکمل بھی کر سکتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ، فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب صبح کی اذان سنے اور (کھانے پینے کا) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اپنی ضرورت پوری کئے بغیر نہ رکھے ۔
[سنن ابی داؤد،کتاب الصوم ،باب فی الرجل یسمع النداء والاناء علی یدہ ، حدیث:۲۳۵۰]
کچھ لوگوں کو یہ بات بہت پسند آئی اور وہ اذان فجر کے درمیان بھی کھانے پینے کو جائز قرار دینے لگے۔ اور حوالہ کے طور پر اسی حدیث کو پیش کرنے لگے۔
کیا واقعی علماۓ اہل سنت نے بلاوجہ کی سختی کر رکھی ہے؟اس کی حقیقت کیا ہے؟ آئیے اس بارے میں اہل سنت کے موقف کو سمجھتے ہیں۔
اہل سنت کا موقف: عبادت کی نیت سے ایک متعین وقت کے لیے کھانے پینے اور جماع وغیرہ سے خود کو روکے رکھنے کا نام روزہ ہے۔
اس خاص اور متعین وقت کی ایک ابتدا ہے اور ایک انتہا۔ ابتدا ہے صبح صادق اور انتہا ہے غروب آفتاب۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪-ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِۚ
ترجمہ:کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے فجر سے سفیدی (صبح) کا ڈورا سیاہی(رات) کے ڈورے سے ممتاز ہوجائے پھر رات آنے تک روزوں کو پورا کرو۔[سورہ بقرہ:۱۸۷]
اس آیت میں سیاہی کا ڈورا رات کو اور سفیدی کا ڈورا صبح صادق کو کہا گیا ہے۔ اور اس پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے۔
یعنی اللہ کریم نے روزہ کے لئے صبح صادق یعنی دن کے شروع سے رات ہونے تک کا وقت مقرر فرما دیا ہے۔
اب کوئی بندہ صبح صادق ہونے کے بعد بھی کھاے پئے توحکم الہی کی عدم بجاآوری کی وجہ سے اس کا روزہ نہیں ہوگا،ایسے ہی جیسے سورج ڈوبنے سے اگر ایک منٹ بھی پہلے افطار کر لے تو روزہ نہیں ہوگا۔ یہی قرآن کا حکم ہے۔
اب آئیے حضور ﷺ کی تعلیمات کو دیکھتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا يَهِيدَنَّكُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَعْتَرِضَ لَكُمُ الْأَحْمَرُ.
ترجمہ:حضر ت طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کھاؤ پیو، اور اوپر کو چڑھنے والی روشنی تمہیں کھانے پینے سے قطعاً نہ روکے اس وقت تک کھاؤ، پیو جب تک کہ سرخی چوڑائی میں نہ پھیل جائے یعنی صبح صادق نہ ہوجائے ۔ [ابوداود، کتاب الصوم ،باب وقت السحور، حدیث: 2348 . سنن الترمذی:حدیث:705. امام ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔]
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، ثُمَّ قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا أَعْمَى لَا يُنَادِي حَتَّى يُقَالَ لَهُ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بلال تو رات ہی میں اذان دیتے ہیں۔ اس لیے تم لوگ کھاتے پیتے رہو۔ یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں۔ راوی نے کہا کہ وہ نابینا تھے اور اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک ان سے کہا نہ جاتا کہ صبح ہوگئی۔ صبح ہوگئی۔[بخاری،کتاب الاذان،باب اذان الاعمی اذا کان لہ من یخبرہ، :حدیث،۶۱۷]
اسی طرح الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ متعدد احادیث میں آیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری کرنے سے نہ روکے کیونکہ وہ رات ہی میں اذان دیتے ہیں تاکہ قیام کرنے والے رک جائیں اور سونے والے بیدار ہو جائیں ۔ ہاں جب عبد اللہ بن ام مکتوم کی اذان سنو تو تم رک جا ؤ کیونکہ وہ صبح ہونے پر فجر کی اذان دیتے ہیں۔
[صحیح بخاری،کتاب الاذان ، باب الاذان قبل الفجر،حدیث:617، مسلم:1092،ابوداود:2347]
ان احادیث کریمہ سے معلوم ہوا کہ صبح صادق ہوتے ہی کھانا پینا بند ہو جانا چاہیے ، نہیں تو پھر روزہ نہیں ہوگا۔
اب یہ تو سب جانتے ہیں کہ فجر کی اذان رات میں نہیں بلکہ صبح صادق یعنی دن کے شروع ہونے پر ہوتی ہے۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ دن شروع ہوچکا ہے اور اب بھی آپ کھاپی رہے ہیں تو آپ کا روزہ ہوگا؟
نہیں بالکل نہیں ہوگا۔ ہاں اب بھی ایک شبہ باقی رہ جاتا ہے کہ حضور ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ جب صبح کی اذان ہو رہی ہو اور تمہارے ہاتھ میں کھانے کا برتن ہو تو اسے اس وقت نہ رکھو جب تک اپنی حاجت اس سے پوری نہ کر لو۔
تو گذارش ہے کہ آپ صرف کسی ایپ میں کئے گئے ترجمے کو مت دیکھئے بلکہ حدیث کے اصل الفاظ کو دیکھئے۔ آقا ﷺ نے فرمایا
"اذا سمع احدکم النداء والاناء علی یدہ۔۔۔۔۔۔ الخ"
ترجمہ:"جب تم میں سے کوئی نداء یعنی اذان سنے۔۔۔۔۔۔۔"
اس حدیث میں صبح کا لفظ کہیں پر بھی نہیں آیا ہے کہ صبح یعنی فجر کی اذان ہو رہی تو ایسا کرو۔
یہ تو صرف کچھ لوگوں نے ترجمے میں اپنی طرف سے بڑھادیا ہے۔
اب رہی یہ بات کہ آخر اس حدیث کا مطلب کیا ہے تو شارحین حدیث نے لکھا کہ اس حدیث میں "اذان" سے مراد حضرت بلال کی اذان ہے جو تہجد کے وقت میں دی جاتی تھی۔ اس اذان کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور اس کے ہاتھ میں کھانے پینے کا برتن ہو تو رکھ نہ دے بلکہ اس سے اپنی ضرورت پوری کر لے۔ کیونکہ وہ رات ہی میں اذان دیتے ہیں ہاں جب عبد اللہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو تو رک جاؤ کیونکہ وہ صبح صادق ہونے پر اذان دیتے ہیں۔جیسا کہ خود دوسری روایات میں اس کی صراحت موجود ہے۔
بعض علماء نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوۓ فرمایا کہ صحابہ کرام اذان سنتے ہی ہر کام کو چھوڑ کر مسجد حاضر ہو جاتے تھے تو حضور ﷺ نے فرمایا جب تم اذان سنو اور کھانے کا برتن تمہارے ہاتھ میں ہو تو جلد بازی نہ کرو بلکہ اس سے کھا کر آؤ تاکہ نماز میں خشوع خضوع رہے اور توجہ دوسری طرف نہ ہو۔ یعنی اس حدیث کا تعلق رمضان میں فجر کے ساتھ نہیں بلکہ یہ پورے سال اور ہر اذان کے لئے ایک عام حکم ہے۔ ظہرکی نماز کی اذان ہو یا عشاء کی اگر اذان ہوتے وقت تم کچھ کھا پی رہے ہو تو پہلے کھا پی لو پھر نماز کے لیے آؤ۔
بہر حال اس کا پہلا مطلب ہو یا دوسرا اذان فجر یعنی صبح صادق ہونے کے بعد کھانے پینے کی حضور ﷺ نے بالکل اجازت نہیں دی۔ اس لئے صبح صادق ہونے کے بعد کھانا پینا بالکل درست نہیں ہے۔ اور علماۓ اہل سنت نے کوئی بے جا سختی نہیں کی ہے بلکہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہے وہی من وعن بتادیا ہے۔
عزیز بھائیو! یہ فتنے کا زمانہ ہے ۔ علم سیکھیے اور اہل سنت والجماعت کے سچے عقیدے پر قائم رہیے اور گمراہ جماعت سے خود کو دور رکھیے۔اپنے کریم آقاﷺ سے ٹوٹ کر پورے دل کے ساتھ محبت کیجیے ۔ کیونکہ ان کی محبت ہی ہمیں منزل مقصود سے ہمکنار کرنے والی ہے اور انہیں کی محبت ہماری جانوں کے لئے اکسیر ہے۔
اللہ ہمارا اور آپ کا حامی وناصر ہو۔
آمین ۔
نماز کی اہمیت وفضیلت نماز پڑھنے کا طریقہ نماز کے شرائط وفرائض نماز کے واجبات اورسنتیں نماز کے مکروہات نماز کے مفسدات سجدہ سہو کے مسائل قراءت میں غلطی کے مسائل نماز جنازہ کے مسائل نماز تراویح کے مسائل نماز تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد نماز اشراق اور چاشت نماز توبہ اور تہجد نماز حاجت نماز استخارہ سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز عیدین کی نماز مسافر کی نماز مریض کی نماز